Daagh ki ghazal

Daagh ki ghazal

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا

نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا


وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں

یہ کام کس نے کیا ہے، یہ کام کس کا تھا


وفا کریں گے، نباہیں گے، بات مانیں گے

تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا


رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا

مقیم کون ہوا ہے، مقام کس کا تھا


نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت

تمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا


تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق

کہو وہ تذکرۂ ناتمام کس کا تھا


ہمارے خط کے تو پرزے کیے، پڑھا بھی نہیں

سنا جو تو نے بہ دل، وہ پیام کس کا تھا


اٹھائی کیوں نہ قیامت عدو کے کوچے میں

لحاظ آپ کو وقتِ خرام کس کا تھا


گزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوں

خیالِ دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا


ہمیں تو حضرتِ واعظ کی ضد نے پلوائی

یہاں ارادۂ شربِ مدام کس کا تھا


اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھے

تباہ حال بہت زیرِ بام کس کا تھا


وہ کون تھا کہ تمہیں جس نے بے وفا جانا

خیالِ خام یہ سودائے خام کس کا تھا


انہیں صفات سے ہوتا ہے آدمی مشہور

جو لطفِ عام وہ کرتے یہ نام کس کا تھا


ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغؔ بے وفا نکلا

یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا