Showing Posts From
Urdupoetry
-
Daagh Dehlvi - 08 Apr, 2025
Daagh ki ghazal Ghazab keya
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا تمام رات قیامت کا انتظار کیاکسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیاہنسا ہنسا کے شب وصل اشک بار کیا تسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کیایہ کس نے جلوہ ہمارے سر مزار کیا کہ دل سے شور اٹھا ہائے بے قرار کیاسنا ہے تیغ کو قاتل نے آب دار کیا اگر یہ سچ ہے تو بے شبہ ہم پہ وار کیا نہ آئے راہ پہ وہ عجز بے شمار کیا شب وصال بھی میں نے تو انتظار کیاتجھے تو وعدۂ دیدار ہم سے کرنا تھا یہ کیا کیا کہ جہاں کو امیدوار کیایہ دل کو تاب کہاں ہے کہ ہو مآل اندیش انہوں نے وعدہ کیا اس نے اعتبار کیاکہاں کا صبر کہ دم پر ہے بن گئی ظالم بہ تنگ آئے تو حال دل آشکار کیاتڑپ پھر اے دل ناداں کہ غیر کہتے ہیں اخیر کچھ نہ بنی صبر اختیار کیاملے جو یار کی شوخی سے اس کی بے چینی تمام رات دل مضطرب کو پیار کیابھلا بھلا کے جتایا ہے ان کو راز نہاں چھپا چھپا کے محبت کو آشکار کیانہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہو جاتا صبا نے خاک پریشاں مرا غبار کیاہم ایسے محو نظارہ نہ تھے جو ہوش آتا مگر تمہارے تغافل نے ہوشیار کیاہمارے سینے میں جو رہ گئی تھی آتش ہجر شب وصال بھی اس کو نہ ہمکنار کیارقیب و شیوۂ الفت خدا کی قدرت ہے وہ اور عشق بھلا تم نے اعتبار کیازبان خار سے نکلی صدائے بسم اللہ جنوں کو جب سر شوریدہ پر سوار کیاتری نگہ کے تصور میں ہم نے اے قاتل لگا لگا کے گلے سے چھری کو پیار کیاغضب تھی کثرت محفل کہ میں نے دھوکہ میں ہزار بار رقیبوں کو ہمکنار کیاہوا ہے کوئی مگر اس کا چاہنے والا کہ آسماں نے ترا شیوہ اختیار کیانہ پوچھ دل کی حقیقت مگر یہ کہتے ہیں وہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیاجب ان کو طرز ستم آ گئے تو ہوش آیا برا ہو دل کا برے وقت ہوشیار کیافسانۂ شب غم ان کو اک کہانی تھی کچھ اعتبار کیا کچھ نہ اعتبار کیااسیری دل آشفتہ رنگ لا کے رہی تمام طرۂ طرار تار تار کیاکچھ آ گئی داور محشر سے ہے امید مجھے کچھ آپ نے مرے کہنے کا اعتبار کیاکسی کے عشق نہاں میں یہ بد گمانی تھی کہ ڈرتے ڈرتے خدا پر بھی آشکار کیافلک سے طور قیامت کے بن نہ پڑتے تھے اخیر اب تجھے آشوب روزگار کیاوہ بات کر جو کبھی آسماں سے ہو نہ سکے ستم کیا تو بڑا تو نے افتخار کیابنے گا مہر قیامت بھی ایک خال سیاہ جو چہرہ داغؔ سیہ رو نے آشکار کیا
-
Daagh Dehlvi - 07 Apr, 2025
Daagh ki ghazal
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھاوہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں یہ کام کس نے کیا ہے، یہ کام کس کا تھاوفا کریں گے، نباہیں گے، بات مانیں گے تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھارہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا مقیم کون ہوا ہے، مقام کس کا تھانہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت تمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھاتمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق کہو وہ تذکرۂ ناتمام کس کا تھاہمارے خط کے تو پرزے کیے، پڑھا بھی نہیں سنا جو تو نے بہ دل، وہ پیام کس کا تھااٹھائی کیوں نہ قیامت عدو کے کوچے میں لحاظ آپ کو وقتِ خرام کس کا تھاگزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوں خیالِ دل کو مرے صبح و شام کس کا تھاہمیں تو حضرتِ واعظ کی ضد نے پلوائی یہاں ارادۂ شربِ مدام کس کا تھااگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھے تباہ حال بہت زیرِ بام کس کا تھاوہ کون تھا کہ تمہیں جس نے بے وفا جانا خیالِ خام یہ سودائے خام کس کا تھاانہیں صفات سے ہوتا ہے آدمی مشہور جو لطفِ عام وہ کرتے یہ نام کس کا تھاہر اک سے کہتے ہیں کیا داغؔ بے وفا نکلا یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا