Daagh ki ghazal Ghazab keya

Daagh ki ghazal Ghazab keya

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

تمام رات قیامت کا انتظار کیا


کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا

مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا


ہنسا ہنسا کے شب وصل اشک بار کیا

تسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کیا


یہ کس نے جلوہ ہمارے سر مزار کیا

کہ دل سے شور اٹھا ہائے بے قرار کیا


سنا ہے تیغ کو قاتل نے آب دار کیا

اگر یہ سچ ہے تو بے شبہ ہم پہ وار کیا

نہ آئے راہ پہ وہ عجز بے شمار کیا

شب وصال بھی میں نے تو انتظار کیا


تجھے تو وعدۂ دیدار ہم سے کرنا تھا

یہ کیا کیا کہ جہاں کو امیدوار کیا


یہ دل کو تاب کہاں ہے کہ ہو مآل اندیش

انہوں نے وعدہ کیا اس نے اعتبار کیا


کہاں کا صبر کہ دم پر ہے بن گئی ظالم

بہ تنگ آئے تو حال دل آشکار کیا


تڑپ پھر اے دل ناداں کہ غیر کہتے ہیں

اخیر کچھ نہ بنی صبر اختیار کیا


ملے جو یار کی شوخی سے اس کی بے چینی

تمام رات دل مضطرب کو پیار کیا


بھلا بھلا کے جتایا ہے ان کو راز نہاں

چھپا چھپا کے محبت کو آشکار کیا


نہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہو جاتا

صبا نے خاک پریشاں مرا غبار کیا


ہم ایسے محو نظارہ نہ تھے جو ہوش آتا

مگر تمہارے تغافل نے ہوشیار کیا


ہمارے سینے میں جو رہ گئی تھی آتش ہجر

شب وصال بھی اس کو نہ ہمکنار کیا


رقیب و شیوۂ الفت خدا کی قدرت ہے

وہ اور عشق بھلا تم نے اعتبار کیا


زبان خار سے نکلی صدائے بسم اللہ

جنوں کو جب سر شوریدہ پر سوار کیا


تری نگہ کے تصور میں ہم نے اے قاتل

لگا لگا کے گلے سے چھری کو پیار کیا


غضب تھی کثرت محفل کہ میں نے دھوکہ میں

ہزار بار رقیبوں کو ہمکنار کیا


ہوا ہے کوئی مگر اس کا چاہنے والا

کہ آسماں نے ترا شیوہ اختیار کیا


نہ پوچھ دل کی حقیقت مگر یہ کہتے ہیں

وہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیا


جب ان کو طرز ستم آ گئے تو ہوش آیا

برا ہو دل کا برے وقت ہوشیار کیا


فسانۂ شب غم ان کو اک کہانی تھی

کچھ اعتبار کیا کچھ نہ اعتبار کیا


اسیری دل آشفتہ رنگ لا کے رہی

تمام طرۂ طرار تار تار کیا


کچھ آ گئی داور محشر سے ہے امید مجھے

کچھ آپ نے مرے کہنے کا اعتبار کیا


کسی کے عشق نہاں میں یہ بد گمانی تھی

کہ ڈرتے ڈرتے خدا پر بھی آشکار کیا


فلک سے طور قیامت کے بن نہ پڑتے تھے

اخیر اب تجھے آشوب روزگار کیا


وہ بات کر جو کبھی آسماں سے ہو نہ سکے

ستم کیا تو بڑا تو نے افتخار کیا


بنے گا مہر قیامت بھی ایک خال سیاہ

جو چہرہ داغؔ سیہ رو نے آشکار کیا